Apr
24
2019
سوال:اگر فجر کی دو رکعت سنتیں ہم گھر پر پڑھ لیں اور فجر کی نماز کے لئے مسجد پہنچ جائیں اور وہاں پہنچ کر پتا چلے کہ ابھی جماعت میں کافی وقت باقی ہے تو کیا ہم تحیۃ المسجد کی دو رکعتیں پڑھ سکتے ہیں ؟
الجواب باسم ملھم الصواب
أحمدہ و اصلی علی رسولہ الکریم ،اما بعد:
تحیۃ المسجد کی دو رکعت نماز نفل نماز میں شمار ہوتی ہے اور فجر کی نماز سے قبل نفل نماز پڑھنا مکروہ ہے ۔مکروہ اوقات وہ ہیں جن میں نفل نماز پڑھنا مکروہ ہے جیسے طلوع فجر سے نماز فجر تک ،نماز فجر سے طلوع آفتاب تک اور عصر کی نماز کے بعد سے غروب آفتاب تک ان اوقات میں نفل نماز پڑھنا مکروہ ہے البتہ قرآن مجید کی تلاوت کرنا اور ذکر و غیرہ کرنا درست ہے۔چنانچہ اس وقت تحیۃ المسجد نہ پڑھی جائے۔([1])
واللہ اعلم بالصواب
[1] ۔ تسعة أوقات يكره فيها النوافل وما في معناها لا الفرائض ۔۔۔ومنھا مابعد طلوع الفجر قبل صلاۃ الفجر ۔۔۔منھا مابعد صلاۃ الفجر قبل طلوع الشمس ھکذا فی النھایۃ والکفایۃ(فتاویٰ ھندیۃ،ص 52، الناشر دار الفكر،سنة النشر 1411هـ - 1991م)
وأما الأوقات التي يكره فيها التطوع لمعنى في غير الوقت فمنها ما بعد طلوع الفجر إلى صلاة الفجر وما بعد صلاة الفجر إلى طلوع الشمس وما بعد صلاة العصر إلى مغيب الشمس۔ ۔ ولا خلاف في أن أداء التطوع المبتدإ مكروه فيها وأما التطوع الذي له سبب كركعتي الطواف وركعتي تحية المسجد فمكروه عندنا(بدائع الصنائع،کتاب الصلاۃ، بيان ما يكره من التطوع)