Apr
24
2019
سوال:ایک حدیث میں اس بات کا حکم دیا گیا ہے کہ جب کوئی مسجد میں داخل ہو تو اسے دو رکعت تحیۃ المسجد پرھنی چاہیے ۔سوال یہ ہے کہ اگر کوئی شخص مسجد میں نماز جمعہ کے لئے اس وقت آئے جب امام اردو خطبہ دے رہا ہو تو کیا اسے بھی دو رکعات پڑھنی چاہیے یا نہیں ۔ آپ کے پچھلے جواب سے یہ ظاہر ہے کہ ابن عباس ؓ اور ابن عمر ؓ امام کے منبر پر بیٹھنے کے بعد ذکر اور نماز کو پسند نہیں فرماتے تھے ؟
الجواب باسم ملھم الصواب
أحمدہ و اصلی علی رسولہ الکریم ،اما بعد:
اصلا ً تو عربی خطبے کے آداب میں یہ بات داخل ہے کہ اُس کے دوران نہ بات چیت کی جائے نہ نوافل پڑھے جائیں اور نہ ہی سلام و ذکر وغیرہ۔یہاں تک کہ اذان کا جواب دینا بھی منع ہے ۔اسی طرح اردو خطبے کا بھی وہی مقصد ہے اور اس میں عموما ً قرآن ِ حکیم پڑھا جاتا ہے یا پڑھا جانا چاہیے ۔لہذا قرآن حکیم کے آداب اور دینی وعظ و نصیحت کی عظمت و اہمیت کا تقاضہ ہے کہ اس دوران تحیۃ المسجد وغیرہ نوافل ادا نہ کئے جائیں ۔ارشاد باری تعالیٰ ہے : وَإِذَا قُرِئَ الْقُرْآنُ فَاسْتَمِعُوا لَهُ وَأَنْصِتُوا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ (204) ترجمہ:’’اور جب قرآن پڑھاجائے تو اسے غور سے سنا کرو اور خاموش رہا کرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔‘‘
واللہ اعلم بالصواب