Apr
24
2019
سوال:میں جاننا چاہتا ہوں کہ اگر جماعت کے دوران کسی کا وضو ٹوٹ جائے تو کیا اسے امام کے ساتھ نماز مکمل کرنی چاہیےیا پہلے ہی نماز توڑ دینی چاہیے؟
الجواب باسم ملھم الصواب
أحمدہ و اصلی علی رسولہ الکریم ،اما بعد:
نماز پڑھنے والے کا وضو اگر نماز کے دوران غیر اختیاری طور پر ٹوٹ جائے تو نماز کو وہیں چھوڑ کر قریب جگہ میں وضو کرنے چلا جائے ۔ راستے میں نماز کے منافی عمل بات وغیرہ نہ کرے وضو کے بعد آکر جماعت میں شریک ہو اگر جماعت باقی ہو ،پھر جو رکعتیں وضو کرنے کی وجہ سے نکل چکی ہیں اُن کو بلا قراءت مکمل کر لے ۔جبکہ امام کے سلام پھیرنے سے قبل مکمل کر سکتا ہو اگر امام کے سلام سے قبل مکمل کرنے کا وقت نہ ہو تو پھر امام کے سلام پھیرنے کے بعد چھوٹی ہوئی رکعات کو بلا قراءت کے مکمل کر لے ۔اس مذکورہ صورت کو بناء کہا جاتا ہے لیکن چونکہ بناء کے جواز کے لئے تیرہ شرائط ہیں اور یہ شرائط دقیق بھی ہیں عام آدمی کے لئے ان شرائط کی مکمل پاسداری کرنا مشکل ہوتا ہے۔اس لئے افضل و بہتر یہی ہے کہ وضو کے بعد نئے سرے سے نماز کو شروع کرلیں لیکن پہلی نماز کہ جس میں وضو ٹوٹا تھا اُس نماز کو سلام کے ذریعے ختم کردے۔وضو کرنے کے بعد اگر جماعت باقی ہو تو جماعت کی نماز میں امام کے ساتھ نئے سرے سے شریک ہوجائے ورنہ اکیلے نماز پڑھ لے ۔اس لئے صورت ِ مسئولہ میں مقتدی وضو کرنے کے بعد نئے سرے سے نماز پڑھ لےیہی بہتر ہے۔([1])
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَصَابَهُ قَيْءٌ أَوْ رُعَافٌ أَوْ قَلَسٌ أَوْ مَذْيٌ فَلْيَنْصَرِفْ فَلْيَتَوَضَّأْ ثُمَّ لِيَبْنِ عَلَى صَلَاتِهِ وَهُوَ فِي ذَلِكَ لَا يَتَكَلَّمُ(ابن ماجہ، كتاب إقامة الصلاة والسنة فيها، باب ما جاء في البناء على الصلاة) ترجمہ:حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس کو نماز میں قے آئے یا نکسیر پھوٹے یا منہ بھر کر پانی نکلے یا مذی نکل جائے تو وہ واپس جا کر وضو کرے پھر اپنی نماز پر بنا کرے اور اس دوران وہ بات نہ کرے ۔
واللہ اعلم بالصواب
[1] ۔ ( واستئنافه أفضل ) تحرزا عن الخلاف۔۔۔ وإذا ساغ له البناء توضأ فورا بكل سنة وبنى على ما مضى بلا كراهة ويتم صلاته ثمة وهو أولى تقليلا للمشي(در مختار،
ص 605،الناشر دار الفكر،سنة النشر 1386،مكان النشر بيروت)
من سبقه حدث توضأ وبنى كذا في الكنز۔۔۔ وأما الإمام والمأموم إن كانا يجدان جماعة۔۔۔ثم لجواز البناء شروط منها أن يكون الحدث موجبا للوضوء ولا يندر وجوده وأن يكون سماويا لا اختيار للعبد فيه ولا في سببه ومنھا أن ینصرف من ساعتہ۔۔۔منها أن لا يفعل بعد الحدث فعلا منافيا للصلاة۔۔۔منھا ان لا یظھر حدثہ السابق بعد الحدث السماوی(فتاویٰ ھندیۃ،ص 94،الناشر دار الفكر،سنة النشر 1411هـ - 1991م)