Menu

Fatawaa

حدیث ’’کوئی مرض متعدی نہیں ‘‘کی وضاحت

Apr 24 2019

 

سوال:اس حدیث ’’کوئی مرض متعدی نہیں نہ ماہ صفر منحوس ہے نہ غول کا وجود ہے‘‘کی وضاحت کردیں کیونکہ بحیثیت معالج ہم مریضوں کو بعض امراض میں احتیاط کے لئے کہتے ہیں جو امراض ایک دوسرے کو لگ سکتے ہیں؟

الجواب باسم ملھم الصواب

      أحمدہ و اصلی علی رسولہ الکریم ،اما بعد:

ایک تو (لا عدوی ولاطیرۃ)والی حدیث ہے کہ کوئی بیماری کسی دوسرے کو متعدی نہیں ہوتی لیکن دوسری احادیث بھی ہیں جس میں جذام کے مریض سے دور رہنے کا حکم ہے۔لہذا محدثین نے دونوں قسم کی احادیث میں تطبیق دی ہے ۔ابن الصلاح ؒ اور امام بیہقی  ؒ وغیرہ علماء نے دونوں قسم کی احادیث میں تطبیق دیتے ہوئے فرمایا کہ جن احادیث میں تعدیہ (contagious)امراض کی نفی ہے ۔ان کا مقصد یہ ہے کہ کسی بیماری اور مرض میں بالذات یہ تاثیر نہیں ہوتی کہ وہ دوسرے شخص کی طرف منتقل ہوجائے ۔زمانہ ٔ جاہلیت میں لوگوں کا یہی خیال تھا کہ امراض میں دوسرے کی طرف منتقل ہونے کی ذاتی تاثیر اور صلاحیت ہوتی ہے ۔وہ امراض کو بالذات متعدی (contagious) سمجھتے تھے ۔حضورﷺ نے اس کی نفی فرمائی اور جن احادیث سے تعدیہ امراض کا ثبوت معلوم ہوتا ہے وہ ظاہری سبب کے اعتبار سے ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ظاہری سبب کے طور پر بعض امراض میں تعدیہ کا وصف پیدا فرمایا ہے کہ دوسرے کی طرف منتقل ہوسکتے ہیں لیکن سبب حقیقی اور مؤ ثر اصلی کے طور پر یہ وصف ان میں نہیں ۔لہذا نفی سبب حقیقی ہے اور اثبات سبب ظاہری کا ہے ۔اس لئے دونوں قسم کی احادیث میں کوئی تعارض نہیں ۔جمہور علماء نے اسی توجیہ کو اختیار کیا ہے۔لہذا صورت ِ مسئولہ میں نفی والی حدیث کو احتیاط پر بھی محمول کیا جاسکتا ہے ۔بعض امراض کو اطباء، ڈاکٹرز کے تجربے اور مشاہدے میں سبب ظاہری کے طور پر متعدی ہوتے ہیں اُن میں احتیاط کرنے لئے بتانا درست ہے لیکن کسی مرض کو متعدی بالذات سمجھنا اور سبب حقیقی اور مؤثر اصلی سمجھنا جائز نہیں جیسے کہ زمانہ ٔ جاہلیت میں لوگوں کا عقیدہ تھا۔([1])

واللہ اعلم بالصواب


[1] ۔ أن المراد بنفي العدوى أن شيئا لا يعدى بطبعه نفيا لما كانت الجاهلية تعتقده أن الأمراض تعدي بطبعها من غير إضافة إلى الله فأبطل النبي صلى الله عليه و سلم اعتقادهم ذلك وأكل مع المجذوم ليبين لهم أن الله هو الذي يمرض ويشفي ونهاهم عن الدنو منه ليبين لهم أن هذا من الأسباب التي أجرى الله العادة بأنها تفضي إلى مسبباتها۔۔۔ بل الله هو الذي إن شاء سلبها قواها فلا تؤثر شيئا وإن شاء أبقاها فأثرت۔۔۔ قال البيهقي وأما ما ثبت عن النبي صلى الله عليه و سلم أنه قال لا عدوى فهو على الوجه الذي كانوا يعتقدونه في الجاهلية من إضافة الفعل إلى غير الله تعالى وقد يجعل الله بمشيئته مخالطة الصحيح من به شيء من هذه العيوب سببا لحدوث ذلك ولهذا قال صلى الله عليه و سلم فر من المجذوم فرارك من الأسد۔۔۔ وتبعه على ذلك بن الصلاح في الجمع بين الحديثين ومن بعده وطائفة ممن قبله(فتح الباری،کتاب الطب،قولہ باب الجذام)

ولکن الموقف الراجح فی باب العدویٰ ما ذکرہ الحافظ فی الفتح عن البیہقی وابن الصلاح وغیرہ قال البیہقی رحمہ اللہ أما ثبت عن النبیﷺ انہ قال لاعدویٰ فھو علی الوجہ الذی ما یعتقدونہ فی الجاھلیۃ من اضافۃ الفعل الی غیر اللہ تعالیٰ وقد یجعل اللہ بمشیئتہ مخالطۃ الصحیح من بہ شئی من ھذہ العیوب سبباً لحدوث ذلک ولھذا قال صلی اللہ علیہ وسلم فر من المجذوم فرارک من الاسد(تکملۃ فتح الملھم،کتاب الطب ،جلد4،ص 370)