Menu

Fatawaa

رمضان کے چھوٹے ہوئے روزوں کی قضاء

Apr 24 2019

سوال:اگر روزوں کا پتا نہ ہو کہ کتنے چھوڑے یا توڑے گئے ہیں تو کتنے روزوں کی قضاء کریں یا کتنا کفارہ ادا کریں ؟

الجواب باسم ملھم الصواب

أحمدہ و اصلی علی رسولہ الکریم ،اما بعد:

جواب:رمضان کا روزہ بلاعذر جان بوجھ کر چھوڑ دینا انتہائی کم قسمتی اور محرومی کی بات ہے۔ بلاعذر چھوڑے گئے روزوں کی قضاءضروی ہے۔رمضان کا روزہ رکھ کر جان بوجھ کر توڑنے کی صورت میں کفارہ لازم ہوگا۔ کفارہ یہ ہے کہ یا تو دو ماہ مسلسل روزے رکھے جائیں اور اگر ضعف و کمزوری کی وجہ سے دو ماہ مسلسل روزے رکھنے کی بالکل استطاعت نہ ہو تو ساٹھ مسکینوں کو دو وقت پیٹ بھر کر کھانا کھلایا جائے۔ چاہے دو دن ایک وقت کھلایا جائے، چاہے ایک غریب کو ساٹھ دن تک دو وقت کھانا کھلایا جائے۔روزے کی قضاء، کفارہ، اور فدیے میں فرق ہے جو درج ذیل ہے:

1۔رمضان کا روزہ نہ رکھنے یا رکھ کرعذرِ شرعی  کی وجہ سے  توڑدینے، اسی طرح نفلی روزہ رکھ کر توڑ دینے سے روزے کی صرف قضا لازم ہوتی ہے۔

2۔رمضان کا روزہ رکھ کر جان بوجھ کر کھا پی کر، یا ہمبستری کر کے روزہ توڑ دینے سے قضا کے ساتھ کفارہ بھی لازم ہو جاتا ہے۔ یہ کفارہ مسلسل ساٹھ روزےرکھنے کی صورت میں ادا ہوتا ہےاور اگر روزہ رکھنے کی استطاعت نہیں ہو تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلادے اور ساٹھ مسکینوں کو پیٹ بھر کر دو وقت کا کھانا کھلانا واجب ہے چاہے ایک ہی دفعہ دن میں صبح و شام دو وقت کھلادے ،چاہے دو دن صبح کے وقت یا دو دن شام کے وقت۔

 مسلسل بیماری یابڑھاپے کی وجہ سے جبکہ آئندہ صحتیاب ہونے کی امید بھی نہ ہو تو چھوٹ جانے والے روزے کی قضا نہ کرنے کی صورت میں اس روزے کے بدلے فدیے کی ادائیگی لازم ہوتی ہے۔ اس فدیے کی مقدار ایک صدقۃ الفطر ہے۔ یعنی تقریبا دو کلو گندم یا اسکی قیمت البتہ حضرت تھانوی ؒنے امدادا لفتاوی میں احتیاطا سوا دو کلو دینے کو پسند کیا ہے۔اگر یاد نہ ہو کہ کس رمضان کے کتنے روزے قضاء ہوئے ہیں تو اس طرح نیت کر لے کہ سب سے پہلے رمضان کا پہلا روزہ جو میرے ذمہ ہے اس کی قضاء کرتا ہوں ۔تعداد یاد نہ ہونے کی صورت میں غالب اندازے اور تخمینہ سے ایک تعداد مقرر کر لے روزوں کی قضاء اور کفارہ ادا کیا جائے ۔([1])



[1] ۔ وقضوا  لزوماما قدروا بلا فدية و  بلا ولاء  لأنه على التراخي(رد المحتار،کتاب الصوم، فصل في العوارض المبيحة۔۔۔)

إذا كثرت الفوائت يحتاج لتعيين كل صلاةيقضيها لتزاحم الفروض والأوقات۔۔۔ فإن أراد تسهيل الأمر عليه نوى أول ظهر عليه۔۔۔ وكذا الصوم  الذي عليه من رمضانين  إذا أراد قضاءه يفعل مثل هذا(مراقی الفلاح ،کتاب الصلاۃ، باب قضاء الفوائت)

إذا أكل متعمدا ما يتغذى به أو يتداوى به يلزمه الكفارة (الفتاویٰ الھندیۃ،ص 76، الناشر دار الفكر،سنة النشر  1411هـ  1991م)

فيعتق أولا فإن لم يجد صام شهرين متتابعين فإن لم يستطع أطعم ستين مسكينا(رد المحتار،کتاب الصوم، باب ما يفسد الصوم ۔۔۔)

من لا يدري كمية الفوائت يعمل بأكبر رأيه فإن لم يكن له رأي يقض حتى يتيقن أنه لم يبق عليه شيء(حاشیۃ الطحطاوی ،ص 290،الناشر المطبعة الكبرى الأميرية ،
سنة النشر 1318هـ،مكان النشر مصر)