Jan
30
2021
مىرى اىك دوست كو اس كے شوہر نےحمل كےدوران فون پر تىن طلاقىں دىں، جبكہ حمل كى مدت سات ماہ تھى، طلاق دىنے كے دوسال بعد ىہ شخص كہہ رہاہے كہ اہل حدىث مسلك كے نزدىك اىك مجلس مىں تىن طلاقىں دىنے سے اىك طلاق واقع ہوتى ہے، كىا ىہ بات درست ہے، ىہ بھى رہنمائى فرمائىں كہ اس كے مطابق عمل كىا جاسكتا ہے؟ جزاك اللہ خىرا۔
الجواب باسم ملهم الصواب
واضح رہے کہ ایک مجلس میں تین طلاقیں دینا خواہ ایک جملہ سے دی جائیں یا الگ الگ جملوں سے، خلافِ سنت اور ناجائز ہے، تاہم اگر کسی نے اس طریقہ سےتین طلاقیں دیں تو یہ تین طلاقیں ہی شمار ہوں گی اور تینوں طلاقیں واقع ہوجائىں گی، یہ موقف قرآنِ کریم اور احادیثِ صحیحہ سے ثابت ہے اور اسی پر جمہور صحابہ، تابعین رضوان اللہ علیہم اجمعین، اور چاروں ائمہ یعنی حضرت امام ابوحنیفہ، حضرت امام مالک، حضرت امام شافعی اور حضرت امام احمد بن حنبل رحمہم اللہ تعالیٰ کا اتفاق ہے۔
لہذا صورتِ مسئولہ میں جب شوہر نے تین طلاقیں صریح دیں ہیں، تو شرعا تینوں طلاقیں واقع ہوکر نکاح ختم ہو گیا ہے، اب دوسال بعد مذكورہ شخص كا ىہ كہنا كہ اہل حدىث مسلك كے نزدىك اىك مجلس مىں تىن طلاقىں دىنے سے اىك طلاق واقع ہوتى ہے، قرآن وسنت واجماع صحابہ كے خلاف ہونے كى وجہ سے غىر معتبر ہے۔ اس لیے خاتون کے لیے حلالۂ شرعیہ کے بغیر اس مرد کے ساتھ ازدواجی زندگی قائم کرنا حرام ہے۔ اس کو اختیار ہے اس مرد کے علاوہ دوسرے کسی مرد سے نکاح کرکے باعزت زندگی گزارے۔
عن عائشة أن رجلا طلق امرأته ثلاثا فتزوجت فطلق فسئل النبي صلى اللہ عليہ وسلم أتحل للأول قال لا حتى يذوق عسيلتها كما ذاق الأول.(صحيح البخاري،۲/۷۹۱)
ولو قال ظننت أنها تحل لي لا يحد لأن الظن في موضعه لأن أثر الملك قائم في حق النسب والحبس والنفقة فاعتبر ظنه في إسقاط الحد.(الهداية في شرح بداية المبتدي،۲/۳۴۵)
ومفاده أنه لو وطئها بعد الثلاث في العدة بلا نكاح عالما بحرمتها لا تجب عدة أخرى لأنه زنا. وفي البزازية: طلقها ثلاثا ووطئها في العدة مع العلم بالحرمة لا تستأنف العدة بثلاث حيض، ويرجمان إذا علما بالحرمة ووجد شرائط الإحصان، ولو كان منكرا طلاقها لا تنقضي العدة، ولو ادعى الشبهة تستقبل.(رد المحتار،۳/۵۱۸)
والله أعلم بالصواب
فتوی نمبر: 4666