Menu

Fatawaa

حالتِ حمل میں طلاق اور عدت كا حكم

Jan 30 2021

حاملہ عورت کو طلاق ہوتی ہے یا نہیں؟ اگر شوہر دوران حمل طلاق دے دے تو اس کی عدت کیا ہوگی؟ جواب تفصیل کے ساتھ مطلوب ہے۔ نیز یہ بھی بتادیں کہ اس فتوے میں اہل حدیث اور دیوبند میں کوئی فرق ہے یا نہیں؟ جزاك اللہ خىراً۔
الجواب باسم ملهم الصواب
جی ہاں حالتِ حمل میں طلاق دینے سے بھی طلاق واقع ہو جاتی ہے، لہذا اگر كوئى شخص دورانِ حمل اپنى بىوى كو طلاق دے دے تو اس عورت كى عدت وضعِ حمل (بچے كى پىدائش) ہے۔ بچے كى ولادت كے ساتھ عدت پورى ہوجائے گى، اور عدت كى پابندى ختم ہوجائے گى۔ نىز اس مسئلہ مىں كسى مسلك كا كسى قسم كا كوئى اختلاف نہىں، ىہ نصِ قرآنى، سنت واجماعِ امت كا متفقہ مسئلہ ہے۔
وطلاق الحامل یجوز عقیب الجماع ویطلقھا للسنۃ ثلاثا یفصل بین کل تطلیقتین بشھر عند أبی حنیفۃ وأبی یوسف رحمھما اللہ تعالی کذا فی الھدایۃ(الفتاوی الھندیۃ،۱؍۳۴۹)
وأما عدة الحبل فهي مدة الحمل، وسبب وجوبها الفرقة أو الوفاة، والأصل فيه قوله تعالى {وأولات الأحمال أجلهن أن يضعن حملهن} أي: انقضاء أجلهن أن يضعن حملهن، وإذا كان انقضاء أجلهن بوضع حملهن كان أجلهن؛ لأن أجلهن مدة حملهن (بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع،۳/۱۹۲)
والله أعلم بالصواب
فتوی نمبر: 4698