Menu

Fatawaa

بوقتِ نكاح طلاق دینے پر جرمانے كى شرط لگانا

Jan 22 2021

نكاح مىں اس قسم كى شرط لگانا كہ اگر طلاق دى تو پانچ لاكھ روپے دىنے ہوں گے، ىعنى كہ طلاق دىنے پر كوئى مالىت ىا كوئى ملكىت ٹرانسفركرنى ہوگى، اس طرح كى شرط لگانا كىسا ہے؟ جزاك اللہ خىرا۔
الجواب باسم ملهم الصواب
واضح رہے کہ جمہور فقہاء رحمہم اللہ كے نزدىك مالی جرمانہ لینا شرعاً جائز نہیں ہے، لہذا نکاح مىں لڑکی کے خاندان کی طرف سے لڑکے (داماد) پر طلاق کی صورت میں پانچ لاکھ روپے ىا كوئى ملكىت وغىرہ ٹرانسفركرنے كى شرط لگانا شرعاً جائز نہیں۔ اس  طریقے سے اجتناب کرنا ضروری ہے۔ اگر کسی نے اس شرط کے ساتھ نکاح کرلیا تو نکاح منعقد ہوجائے گا اور طلاق کی صورت میں یہ مال لازم نہ ہوگا۔
أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- قال:« لا يحل مال امرئ مسلم إلا بطيب نفس منه ». (السنن الكبرى للبيهقي،۶/۱۰۰)
(قوله لا بأخذ مال في المذهب) قال في الفتح: وعن أبي يوسف يجوز التعزير للسلطان بأخذ المال. وعندهما وباقي الأئمة لا يجوز. اهـ. ومثله في المعراج، وظاهره أن ذلك رواية ضعيفة عن أبي يوسف. قال في الشرنبلالية: ولا يفتى بهذا لما فيه من تسليط الظلمة على أخذ مال الناس فيأكلونه اهـ ومثله في شرح الوهبانية عن ابن وهبان...والحاصل أن المذهب عدم التعزير بأخذ المال الخ (حاشية ابن عابدين،۴/۶۱)
والله أعلم بالصواب
فتوی نمبر: 4655