Menu

Fatawaa

نذر سے متعلق مسائل

Jan 08 2021

كىا فرماتے ہىں علماءِ دىن اور مفتىانِ شرع متىن اس مسئلہ مىں كہ اىك شخص نے نذر مانى كہ مىں اللہ كے لىےاىك دىگ مىٹھے چاول كى پكاؤں گا۔ نذركو مد نظر ركھتے ہوئے ناذر نے مىٹھى دىگ كے لىے سامان خرىد لىا اور پكانے كا آرڈر بھى دے دىا۔ اب کچھ حضرات كے كہنے پر كہ ہم سادہ چاول كھانے كے عادى ہىں اور صرف سادے چاول ہم كھاسكتے ہىں، لىكن سادہ چاول كى طرح دلچسپى سے مىٹھے چاول نہىں كھاسكتے، اب ان كى دلچسپى اور چاہت كو مدنظر ركھتے ہوئے سادہ چاول پكانے سے اس كى نذر مكمل ہوجائے گی ىا نہىں؟ نىز ىہ بھى واضح كرىں كہ اگر دونوں جائز ہوں تو اس مىں ناذر كى نىت كا اعتبار كرتے ہوئے مىٹھے چاول پكانا افضل وبہتر ہے ىا طلبہ وغىرہ كى چاہت ودلچسپى كو مد نظر ركھتے ہوئے سادہ چاول پكانا افضل وبہتر ہے، مكمل دلائل سے جواب عناىت فرماكر ممنون فرمادىں۔
اس استفتاء کے جواب كى اشد ضرورت ہے اصل مسئلہ اس میں یہ پوچھنا ہے کہ افضل کونسا ہے یا دونوں طریقے برابر ہىں؟ ناذر کی نیت کا اعتبار کرنا افضل ہے یا فقراء کا یا علی التسویہ ہے جو بھی ہو لیکن اس پر حوالہ اور دلیل مطلوب ہے، شکریہ ۔
الجواب باسم ملهم الصواب
اگر نذر مىں كوئى چىز متعىن كى كہ فلاں چىز دوں گا تو بعىنہ ىہى چىزدىنا لازم نہىں، بلكہ اس كى قىمت كے برابر نقدى ىا كوئى دوسرى چىز بھى دے سكتاہے، اس کی وجہ فقہاء رحمہ اللہ نے ىہ ذکر فرمائى ہے كہ نذر كا مقصداللہ تعالى كا تقرب حاصل كرنا ہوتا ہے،اس لىے نذر میں صرف وہ چیز داخل ہوگی جوتقرب الی اللہ میں داخل ہےاور مکان، فقراء اور اشیاء کی تعیین کو تقرب الی اللہ میں کوئی دخل نہیں اس لىے کہ کسی بھی جگہ کے فقراء پر اور کوئی بھی چیز صدقہ کرنے سے تقرب الی اللہ حاصل ہوجاتا ہے، مخصوص فقراء پر خرچ کرنا یا مخصوص اشیاء خرچ کرنا یہ اللہ تعالى كے قرب مىں زیادتی کا باعث نہیں، اس لىے  ان چیزوں کی تخصیص نذر کے تحت داخل نہیں ہوگی۔
لىكن نذر کو جگہ اور فقراء وغىرہ کے ساتھ خاص کرنے کی صورت میں نذر ماننے والے کے لىے مستحب واولی یہی ہے کہ جوچیز اور جو جگہ اس نے متعین کی ہے وہیں صدقہ کرے اور وہی چیز صدقہ کرے، جیسا کہ سنن أبى داؤد كى راوىت سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک آدمی نے بوانہ کے مقام پر اونٹ ذبح کرنے کی نذر مانی تھی، تو آپﷺ نے ان  صاحب کو اسى جگہ اپنی نذر پوری کرنے کا حكم فرمایا۔
عن يحيى بن أبي كثير، حدثني أبو قلابةحدثني ثابت بن الضحاك، قال: نذر رجل على عهد رسول الّله -صلى الّله عليه وسلم- أن ينحر إبلا ببوانة، فأتى رسول الّله -صلى الّله عليه وسلم -، فقال: إني نذرت أن أنحر إبلا ببوانة، فقال رسول الّله -صلى الّله عليه وسلم-: "هل كان فيها وثن من أوثان الجاهلية يعبد؟ " قالوا: لا، قال: "هل كان فيها عيد من أعيادهم؟ " قالوا: لا، قال رسول الّله -صلى الّله عليه وسلم-: "أوف بنذرك، فإنه لا وفاء لنذر في معصية الله، ولا فيما لا يملك ابن آدم" . سنن أبي داود ت الأرنؤوط (۵/ ۲۰۰)(قال الشيخ شعيب الأرنؤوط : إسناده صحيح)
ترجمہ: ”ثابت بن ضحاك فرماتے ہىں كہ: رسول اللہ صلى اللہ علىہ وسلم كے زمانے مىں اىك شخص نے ىہ نذر مانى كہ وہ بوانہ (شام كے قرىب اىك  علاقہ) مىں اونٹ ذبح كرے گا، تو وہ آپ  صلى اللہ علىہ وسلم كى خدمت مىں حاضر ہوا، اور عرض كىا كہ مىں نے بوانہ مىں اونٹ ذبح كرنے كى نذر مانى ہے، تو آپ  صلى اللہ علىہ وسلم نے فرماىا كہ كىا اس جگہ جاہلىت كے بتوں مىں سے كسى  بت كى عبادت كى جاتى تھى؟ تو عرض كىا گىا كہ نہىں، پھر آپ  صلى اللہ علىہ وسلم فرماىا كہ كىا جاہلىت كى رسموں مىں سے كوئى رسم عىد كے طور پر منائى جاتى تھى؟ تو  عرض كىا گىا كہ نہىں، تو آپ صلى اللہ علىہ وسلم نے اس شخص سے فرماىا كہ اپنى نذر اسى جگہ پورى كرو، كىونكہ جو نذر اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں ہو اور جس چیز کا وہ مالک نہیں، اس کو پورا نہ کیا جائے“۔

اور نذر كے پورا ہونے كے لىے تعىىنِ مكان وغىرہ كا لازم نہ ہونا بھى سنن ابى داؤد كى رواىت سے معلوم ہوتا ہے: 

عن جابر بن عبد الله: أن رجلا قام يوم الفتح، فقال: يا رسول الله، إني نذرت لله إن فتح الله عليك مكة أن أصلي في بيت المقدس -قال أبو سلمة مرة:- ركعتين، قال: "صل ها هنا" ثم أعاد عليه، فقال: "صل ها هنا" ثم أعاد عليه، فقال: شأنك إذن". ( سنن أبي داود، ت: الأرنؤوط (۵/ ۱۹۳) )(قال الشيخ شعيب الأرنؤوط : إسناده قوي من أجل حبيب المعلم فهو صدوق لا بأس به. . . .وفي هذا الحديث دليل على أن من جعل لله عليه أن يصلي في مكان، فصلى في غيره أجزأه ذلك.

ترجمہ: ”اىك آدمى فتح كے مكہ كے موقع پر رسول اللہ صلى اللہ علىہ وسلم سے مخاطب ہوا اور عرض كىا اے اللہ كے رسول مىں نےىہ نذر مانى تھى كہ اگر اللہ نے آپ كو مكہ كى فتح عطا فرمائى تو مىں بیت المقدس میں دو رکعت پڑھوں گا، تو آپ ﷺ نے اس شخص سے تىن مرتبہ فرماىا کہ یہیں پڑھ لو۔
مذكورہ بالا دونوں حدىثوں كو حضرت مولانا ظفر احمد تھانوى رحمہ اللہ نے (اعلاء السنن) مىں ذكر كرنے كے بعد فرماىا: قد دل الحديث الأول من الباب على اعتبار تعيين موضع النذر، والثانى على التخيير بين ذلك الموضع وغيرہ، فيحمل الأول على الاستحباب والثانى على الإباحة. (إعلاء السنن، ۱۱/۴۳۹) كہ اس باب كى پہلى حدىث (بوانہ مىں اونٹ ذبح كرنے سے متعلق) اس بات كى دلىل ہے كہ  نذر ماننے مىں جس چىز كى نذر مانى ہے، تو اسى كا پورا كرنا مستحب ہے اور دوسرى حدىث (بىت المقدس مىں نماز پڑھنے سے متعلق) اس بات كى دلىل ہے كہ نذر مىں تعىىن كے باوجود اسى كو پورا كرنا لازمى نہىں، بلكہ مباح ہے۔ لہذا اولى اور مستحب ىہى ہے كہ جس چىز كى نذر مانى ہے اس كوپورا كرے، البتہ اس كے بدل (مثلا: قىمت وغىرہ) كى ادئىگى بھى جائز اور مباح ہے۔   
لہذا سوال مىں مذكور صورت مىں چونكہ مىٹھے چاول كى نذر مانى ہے تو اولى ىہى ہے كہ مىٹھے چاول كى دىگ پكاكر طلبہ كو كھلائے، كىونكہ مىٹھے چاول كے بدلے سادے چاول بنانے مىں فقط ذائقے كى تبدىلى ہے، جبكہ منفعت مىں دونوں برابر ہىں۔ البتہ اگر نذر كو تبدىل كرنے مىں فقراء كا فائدہ زىادہ ہو تو اس مىں اولى ىہ ہے كہ وہاں فقراء كى حاجت كو مد نظرركھتے ہوئے نذر كى ادائىگى اىسى چىز سے كرے جس مىں فقىر كا فائدہ زىادہ ہو، جىساكہ صدقہ فطر مىں گندم كى ادائىگى سے زىادہ اولى قىمت كى ادائىگى كو كہا گىا ہے، اسى طرح اگر كوئى دس درہم كى روٹى فقراء پر صدقہ كرنے كى نذر مانے توروٹى كے بجائے اس كى قىمت دے كر نذر پورى كرنا اولى ہوگا۔
(قوله: والنذر) هو بأن نذر التصدق بهذا الدينار فتصدق بعدله دراهم أو بهذا الخبز فتصدق بقيمته جاز عندنا أو نذر التصدق بشاتين وسطين فتصدق بشاة تعدلهما جاز وليس منه ما لو نذر أن يهدي شاتين وسطين أو يعتق عبدين وسطين فأهدى شاة أو أعتق عبدا يساوي كل منهما وسطين، فإنه لا يجوز؛ لأنه التزم إراقتين وتحريرين فلا يخرج عن العهدة بواحد بخلاف التصدق بشاة تعدل شاتين نذر التصدق بهما؛ لأن المقصود إغناء الفقير وهو يحصل بالقيمة كما في فتح القدير (درر الحكام شرح غرر الأحكام (۱/ ۱۷۸)
وأفاد ببيان الأدنى أنه لو قال لله علي أن أهدي ولا نية له فإنه يلزمه شاة لأنها الأقل، وإن عين شيئا لزمه؛ ولو أهدى قيمتها جاز في رواية، وفي أخرى لا وهي الأرجح، ولا كلام فيما لو كان مما لا يراق دمه من المنقولات، فلو عقارا تصدق بقيمته في الحرم أو غيره لأنه مجاز عن التصدق أفاده في البحر واللباب (الدر المختار وحاشية ابن عابدين,۲/ ۶۱۴)
(نذر أن يتصدق بعشرة دراهم من الخبز فتصدق بغيره جاز إن ساوى العشرة) كتصدقه بثمنه. (الدر المختار ، ۳ / ۷۴۱)
(قوله جاز) أشار إلى أن تعيين ما يشترى به مثل تعيين الزمان والمكان. (حاشية ابن عابدين ، ۳ / ۷۴۱)
(نذر لفقراء مكة جاز الصرف لفقراء غيرها) لما تقرر في كتاب الصوم أن النذر غير المعلق لا يختص بشيء (الدر المختار، ۳ / ۷۴۱)
 (قوله لما تقرر في كتاب الصوم) أي في آخره قبيل باب الاعتكاف وعبارته هناك مع المتن: والنذر من اعتكاف أو حج أو صلاة أو صيام أو غيرها غير المعلق ولو معينا لا يختص بزمان ومكان ودرهم وفقير فلو نذر التصدق يوم الجمعة بمكة بهذا الدرهم على فلان فخالف جاز. . . وكذا يظهر منه أنه لا يتعين فيه المكان والدرهم والفقير لأن التعليق إنما أثر في انعقاد السببية فقط، فلذا امتنع فيه التعجيل، وتعين فيه الوقت أما المكان والدرهم والفقير فهي باقية على الأصل من عدم التعيين، ولذا اقتصر الشارح في بيان المخالفة على التعجيل فقط حيث قال: فإنه لا يجوز تعجيله فتدبر (حاشية ابن عابدين، ۳ / ۷۴۰)
والله أعلم بالصواب
فتوی نمبر: 4585