Menu

Fatawaa

غیر مسلم كے ساتھ كھانا كھانے كا حكم

Dec 30 2020

غير مسلم کے ساتھ کھانا کھانے کى گنجائش  ہے ىا نہىں؟ اس کا جواب مرحمت فرمائيں۔
الجواب باسم ملهم الصواب

غىر مسلموں كى  تالىفِ قلب اوران كواسلام كى طرف مائل كرنے كے لىے اىك دو مرتبہ کبھی کبھار ان كے ساتھ کھانا کھانے کی گنجائش ہے، جىسا كہ رسول اللہ صلى اللہ علىہ وسلم كو اىك ىہودى نے كھانے پر مدعو كىا تو آپ  صلى اللہ علىہ وسلم نے اس كى دعوت قبول فرمالى، چنانچہ مسند احمد مىں ہے: حدثنا عبد الصمد، حدثنا أبان، حدثنا قتادة، عن أنس، أن يهوديا دعا النبي صلى الله عليه وسلم إلى خبز شعير وإهالة سنخة، " فأجابه ".قال الشيخ شعيب الأرنؤوط: إسناده صحيح على شرط مسلم (مسند أحمد،۲۰/ ۴۲۴) 

ترجمہ: ”حضر ت انس رضى اللہ عنہ سے منقول ہے كہ اىك ىہودى نے رسول اللہ صلى اللہ علىہ وسلم كو جو كى روٹى اور  بو دارچربى كھانےكى دعوت دى ،تو  آپ صلى اللہ علىہ وسلم نے دعوت قبول فرمالى“۔

لىكن واضح رہے كہ غىر مسلموں كے ساتھ كھانا كھانے كو عادت اور معمول بنانا درست نہیں، كىونكہ ىہ ان كے ساتھ تعلق بڑھانے اور دلى دوستى كا سبب بنے گا اورکافروں سے ایسی دلی دوستی رکھنا منع ہے کہ جس کی وجہ سے دین میں مداہنت اور کافروں کے مذہبی طور طریقوں سے اُنسیت کا احساس ہو۔ ارشادِ بارى تعالى ہے: يا أيها الذين آمنوا لا تتخذوا الكافرين أولياء من دون المؤمنين أتريدون أن تجعلوا لله عليكم سلطانا مبينا (سورة النساء،آية: ۱۴۴) ترجمہ: ”اے اىمان والو! مسلمانوں كوچھوڑ كر كافروں كو اپنا دوست نہ بناؤ، كىا تم اپنے اوپر اللہ كا صرىح الزام لىنا چاہتے ہو“۔
ولم يذكر محمد رحمه الله الأكل مع المجوسي ومع غيره من أهل الشرك أنه هل يحل أم لا، وحكي عن الحاكم عبد الرحمن الكاتب أنه إن ابتلي به المسلم مرة أو مرتين فلا بأس به، فأما الدوام عليه يكره؛ لأنا نهينا عن مخالطتهم وموالاتهم وتكثير سوادهم، وذلك لا يتحقق في الأكل مرة أو مرتين، إنما يتحقق بالدوام عليه.( المحيط البرهاني ،۹ /۲۱۷)
ولم یذکر محمد رحمہ اللہ تعالی الأکل مع المجوسی ومع غیرہ من أهل الشرک أنہ هل یحل أم لا وحکی عن الحاکم الإمام عبد الرحمن الکاتب أنہ إن ابتلی بہ المسلم مرۃ أو مرتین فلا بأس بہ وأما الدوام علیہ فیکرہ کذا فی المحیط(الفتاوی الھندیۃ،۵؍۳۴۷)
والله أعلم بالصواب
فتوی نمبر: 4626