Menu

Fatawaa

سالگرہ منانے اوراس موقع پر تحائف لىنے كا حكم

Dec 22 2020

عرض ىہ ہے كہ سالگرہ كے تحائف قبول كرنا كىساہے؟ ہم نہىں مناتے، لىكن اگر كوئى ہمىں تحفہ دے، توكىا اس كا لىنا درست ہے؟ برائے مہربانی اس حوالے سے رہنمائی فرمادیں۔ جزاک اللہ خیرا
الجواب باسم ملهم الصواب

سالگرہ منانے کا شرعاً کوئی ثبوت نہیں ہے، بلکہ یہ دورِ حاضر کی گھڑی ہوئی رسم ہے، اور اس موقعے پر تحفے تحائف دىنے كى رسم بھى غیر اسلامی رسم ہے، مسلمانوں نے كفار کی دیکھا دیکھی ان كے طور طریقے اور رسومات کواپنانا شروع کردیا۔ رسول اللہ صلى اللہ علىہ وسلم نے ارشاد فرماىا: «من تشبه بقوم فهو منهم». (رواه أحمد وأبو داود مشكاة المصابيح،۲ / ۱۲۴۶)

ترجمہ: ”جو  شخص كسى قوم كى مشابہت اختىا ركرے گا، وہ انہىں مىں سے ہوگا“۔ تاہم ان رسومات مىں بلاشبہ کفار کے ساتھ مشابہت ہے، ان سے اجتناب ضروری ہے۔ 

لہذامذكورہ صورت مىں سالگرہ كى رسم کی مناسبت سے جوتحائف ىا كىك وغىرہ پیش کیے جاتے ہىں، چاہے وہ سالگرہ کے دن ہوں یا بعد میں  انہیں قبول نہ کریں، بلكہ اچھے طرىقے سے تحفہ قبول کرنے سے معذرت کر لیں۔ لىكن اگر معذرت كرنے كى صورت مىں فتنے كا خوف ہے اور ہدىہ دىنے والے كى كمائى حلال ہے تو ہدىہ قبول كرسكتے ہىں، اسى طرح اگر كوئى شخص اپنى سالگرہ كا كىك لاكر كھلائے تو اس كا بھى ىہى حكم ہے۔ 
(قال: قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم - (من تشبه بقوم): أي من شبه نفسه بالكفار مثلا في اللباس وغيره، أو بالفساق أو الفجار أو بأهل التصوف والصلحاء الأبرار. (فهو منهم): أي في الإثم والخير. قال الطيبي: هذا عام في الخلق والخلق والشعار، ولما كان الشعار أظهر في التشبه ذكر في هذا الباب (مرقاة المفاتيح،۷/ ۲۷۸۲)
والله أعلم بالصواب
فتوی نمبر: 4616