<?xml version="1.0" encoding="utf-8"?>
<rss version="2.0" xmlns:blog="http://dnn-connect.org/blog/" xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom" xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/">
  <channel>
    <title>Fatawaa - بین الاقوامی مسائل</title>
    <link>http://fiqhacademy.com.pk/Fatawaa/term/41/locale/en-US/Fatawaa-بین-الاقوامی-مسائل</link>
    <description />
    <copyright>copyright by Fiqh Academy - Al Hikmah Waqf Reg. Pakistan</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Feb 2021 12:30:49 GMT</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Feb 2021 12:30:49 GMT</lastBuildDate>
    <category>بین الاقوامی مسائل</category>
    <generator>DotNetNuke Blog RSS Generator Version 6.2.2.0</generator>
    <ttl>30</ttl>
    <atom:link href="http://fiqhacademy.com.pk/DesktopModules/Blog/API/RSS/Get?tabid=174&amp;moduleid=565&amp;term=41" rel="self" type="application/rss+xml" />
    <item>
      <title>کسی اور کے پاسپورٹ پر کاروبار کرنا </title>
      <link>http://fiqhacademy.com.pk/Fatawaa/Post/739/کسی-اور-کے-پاسپورٹ-پر-کاروبار-کرنا</link>
      <description>&lt;div style="direction: rtl; text-align: justify;"&gt;&amp;nbsp;درج ذیل فیصلہ حکومت پاکستان نے کیا ہے، اس فیصلے کی رو سے ہمیں یہ مسئلہ بتایا جائے کہ اگر کوئی فریق دوسرے فریق کے پاسپورٹوں پر کاروبار کےلیے گاڑیاں بھجوائے اور دوسرا فریق اس پر راضی ہو اور اسے اس کا معاوضہ بھی دیا جائے تو کیا اس رقم کا لینا دینا جائز ہے؟&lt;br /&gt;
&lt;/div&gt;
&lt;div style="direction: rtl; text-align: justify;"&gt;&amp;rsquo;&amp;rsquo;حکومت پاکستان نے تین سالہ کاروں کی درآمدات کی اجازت دے دی ہے۔ اس سے بیرون ملک مقیم پاکستانی مستفید ہوں گے جو ذاتی سامان کے تحت کاریں بھیجنے، رہائش گاہ کی منتقلی اور گفٹ اسکیموں کے تحت کاریں بھیجنے کی خواہش رکھتے ہیں۔ آٹھ ہزار کاروں کو بندرگاہوں سے آزاد ہونے کے لئے آگے بڑھا دیا گیا ہے۔ بیرون ملک کام کرنے والے ہزاروں پاکستانیوں خصوصاً یو اے ای اور سعودی عرب سے تعلق رکھنے والوں کے ساتھ ساتھ وہاں کار ڈیلرز اور پاکستان میں اکتوبر ۲۰۱۷ء سے ان مراعات کی بحالی کا مطالبہ کر رہے تھے جب سابقہ قواعد و ضوابط واپس لے لیے گئے تھے۔ اس فیصلے سے بیرون ملک مقیم پاکستانی خوش ہوں گے کیونکہ ان میں سے اکثر میزبان ملک سے واپسی پر گاڑی لانے کی خواہش رکھتے ہیں، یا پھر اپنے اہل خانہ کو تحفے کے طور پر گاڑی بھیجنا چاہتے ہیں۔ حکومت کی سابقہ پالیسیوں کے تحت ایسی کاریں درآمد کرنے والے ہزاروں پاکستانی ملک بھر میں یہ گاڑیاں چلاتے ہیں۔ اس منصوبے کے تحت ۹،جنوری۲۰۱۸ ء سے قبل درآمد شدہ آٹھ ہزار نئی اور استعمال شدہ کاریں مستفید ہوں گی۔ یہ کاریں پاکستانی بندرگاہوں پر پھنس گئیں تھیں لیکن اب پاکستان کسٹم ڈیپارٹمنٹ کو کلیئر کردیا جائے گا۔ پاکستان حکومت نے درآمدات کو روکتے ہوئے کہا کہ کاریں درآمد کنندگان کے غیر ملکی بینکوں کی تفصیلات اور کاریں برآمد کرنے والوں سے دیگر معلومات فراہم کیے بغیر لائی گئیں۔ معاملہ فیڈرل بیورو آف ریونیو، وزارت خزانہ اور وزارت تجارت نے مشترکہ طور پر زیر بحث لایا۔ اس سے پچھلے طریقہ کار کو بحال کیا گیا۔&amp;lsquo;&amp;lsquo;&amp;nbsp;&lt;/div&gt;
&lt;div style="direction: rtl;"&gt;&lt;br /&gt;
&lt;/div&gt;
&lt;div style="direction: rtl;"&gt;&lt;br /&gt;
&lt;/div&gt;</description>
      <category>خریدو فروخت</category>
      <category>معیشت وتجارت</category>
      <category>معاملات</category>
      <category>حالات حاضرہ</category>
      <category>بین الاقوامی مسائل</category>
      <guid isPermaLink="true">http://fiqhacademy.com.pk/Fatawaa/Post/739/کسی-اور-کے-پاسپورٹ-پر-کاروبار-کرنا</guid>
      <pubDate>Mon, 01 Jun 2020 04:12:37 GMT</pubDate>
      <blog:publishedon>2020-06-01 04:12:37Z</blog:publishedon>
    </item>
  </channel>
</rss>