<?xml version="1.0" encoding="utf-8"?>
<rss version="2.0" xmlns:blog="http://dnn-connect.org/blog/" xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom" xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/">
  <channel>
    <title>Fatawaa - فرق باطلہ</title>
    <link>http://fiqhacademy.com.pk/Fatawaa/term/52/locale/en-US/Fatawaa-فرق-باطلہ</link>
    <description />
    <copyright>copyright by Fiqh Academy - Al Hikmah Waqf Reg. Pakistan</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Feb 2021 12:21:09 GMT</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Feb 2021 12:21:09 GMT</lastBuildDate>
    <category>فرق باطلہ</category>
    <generator>DotNetNuke Blog RSS Generator Version 6.2.2.0</generator>
    <ttl>30</ttl>
    <atom:link href="http://fiqhacademy.com.pk/DesktopModules/Blog/API/RSS/Get?tabid=174&amp;moduleid=565&amp;term=52" rel="self" type="application/rss+xml" />
    <item>
      <title>سلیمانی فرقے سے تعلق رکھنے والے شخص کے سنی بیٹے سے نکاح </title>
      <link>http://fiqhacademy.com.pk/Fatawaa/Post/1065/سلیمانی-فرقے-سے-تعلق-رکھنے-والے-شخص-کے-سنی-بیٹے-سے-نکاح</link>
      <description>&lt;div style="direction: rtl; text-align: justify;"&gt;محترم مفتی صاحب میرا ایک رشتہ آیا ہے۔ ان کے گھر میں والد سلیمانی اور والدہ سنی ہیں۔ بچے بچپن سے والدہ ہی کے مذہب پر ہیں۔ ان لوگوں کے بقول سلیمانی بھی سنی ہی کی طرح ہیں، بس فرق یہ ہے کہ وہ عید وغیرہ سنیوں سے ایک دن قبل کرتے ہیں۔ اب کچھ عرصہ قبل اس مسئلے کی وجہ سے اور دیگر مسائل کی وجہ سے والدین میں علیحدگی بھی ہوچکی ہے اور بچے سنی مذہب کی پیروی کرتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ رشتہ قبول کیا جاسکتا ہے؟ کیا یہاں شادی کرنا جائز ہوگا یا نہیں؟ رہنمائی فرمائیں۔&lt;br /&gt;
&lt;/div&gt;
&lt;div&gt;&lt;br /&gt;
&lt;/div&gt;</description>
      <category>نکاح و طلاق</category>
      <category>معاملات</category>
      <category>فرق باطلہ</category>
      <guid isPermaLink="true">http://fiqhacademy.com.pk/Fatawaa/Post/1065/سلیمانی-فرقے-سے-تعلق-رکھنے-والے-شخص-کے-سنی-بیٹے-سے-نکاح</guid>
      <pubDate>Wed, 30 Dec 2020 03:59:56 GMT</pubDate>
      <blog:publishedon>2020-12-30 03:59:56Z</blog:publishedon>
    </item>
    <item>
      <title>سیاہ کپڑے پہننا </title>
      <link>http://fiqhacademy.com.pk/Fatawaa/Post/902/سیاہ-کپڑے-پہننا</link>
      <description>&lt;div style="direction: rtl; text-align: justify;"&gt;درج ذیل روایت کی تحقیق مطلوب ہے:&amp;nbsp;&lt;br /&gt;
&lt;/div&gt;
&lt;div style="direction: rtl; text-align: justify;"&gt;حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: &amp;rsquo;&amp;rsquo;سیاہ کپڑے مت پہنا کرو، کیونکہ یہ فرعون کا لباس ہے&amp;lsquo;&amp;lsquo;۔&amp;nbsp; (من لا یحضرہ الفقیہ، شیخ صدوق)&lt;/div&gt;
&lt;div style="direction: rtl;"&gt;&lt;br /&gt;
&lt;/div&gt;
&lt;div style="direction: rtl;"&gt;&lt;br /&gt;
&lt;/div&gt;</description>
      <category>علوم الحدیث</category>
      <category>علوم</category>
      <category>فرق باطلہ</category>
      <guid isPermaLink="true">http://fiqhacademy.com.pk/Fatawaa/Post/902/سیاہ-کپڑے-پہننا</guid>
      <pubDate>Wed, 30 Sep 2020 04:12:15 GMT</pubDate>
      <blog:publishedon>2020-09-30 04:12:15Z</blog:publishedon>
    </item>
    <item>
      <title>آغاخانیوں کا حکم </title>
      <link>http://fiqhacademy.com.pk/Fatawaa/Post/851/آغاخانیوں-کا-حکم</link>
      <description>&lt;div style="direction: rtl; text-align: justify;"&gt;آغا خانیوں کا کیا حکم ہے؟ کیا ان کے ساتھ کھانا کھاسکتے ہیں اور کیا ان کے گھر کا کھانا کھاسکتے ہیں؟ ہمارے آفس میں پچاس فیصد آغاخانی ہیں، یہ نہ نماز پڑھتے ہیں، نہ روزہ رکھتے ہیں اور نہ ہی پردے کا اہتمام کرتے ہیں۔ ان کے عقائد پر روشنی ڈالیے۔&amp;nbsp;&lt;br /&gt;
&lt;/div&gt;
&lt;div&gt;&lt;br /&gt;
&lt;/div&gt;</description>
      <category>فرق باطلہ</category>
      <guid isPermaLink="true">http://fiqhacademy.com.pk/Fatawaa/Post/851/آغاخانیوں-کا-حکم</guid>
      <pubDate>Thu, 30 Jul 2020 05:29:36 GMT</pubDate>
      <blog:publishedon>2020-07-30 05:29:36Z</blog:publishedon>
    </item>
    <item>
      <title>مسلمان کےلیے بوہریوں کا جماعت خانہ تعمیر کرنا  </title>
      <link>http://fiqhacademy.com.pk/Fatawaa/Post/724/مسلمان-کےلیے-بوہریوں-کا-جماعت-خانہ-تعمیر-کرنا</link>
      <description>&lt;div style="direction: rtl; text-align: justify;"&gt;&amp;nbsp;ہمارے ایک دوست کنسٹرکشن کا کام کرتے ہیں اب انہیں بوہریوں کے ہاں کام مل رہا ہے، ان کا جماعت خانہ تعمیر کرنا ہے تو کیا کسی مسلمان کے لیے بوہر یوں کا جماعت خانہ تعمیر کرنا صحیح ہے؟&lt;br /&gt;
&lt;/div&gt;
&lt;div&gt;&lt;br /&gt;
&lt;/div&gt;</description>
      <category>فرق باطلہ</category>
      <guid isPermaLink="true">http://fiqhacademy.com.pk/Fatawaa/Post/724/مسلمان-کےلیے-بوہریوں-کا-جماعت-خانہ-تعمیر-کرنا</guid>
      <pubDate>Fri, 15 May 2020 11:43:43 GMT</pubDate>
      <blog:publishedon>2020-05-15 11:43:43Z</blog:publishedon>
    </item>
    <item>
      <title>دو طلاقوں کے بعد میاں بیوی کا تعلق </title>
      <link>http://fiqhacademy.com.pk/Fatawaa/Post/719/دو-طلاقوں-کے-بعد-میاں-بیوی-کا-تعلق</link>
      <description>&lt;div style="direction: rtl; text-align: justify;"&gt;میں شیعہ فیملی سے تعلق رکھتی ہوں، آج سے دس بارہ سال پہلے میری شادی اہل سنت والجماعت سے تعلق رکھنے والے شخص سے ہوگئی، نکاح کے وقت میرے والدین نے یہ شرط رکھی کہ نکاح اہل تشیع کے مطابق ہوگا، میرے سسرال والوں نے یہ بات مان لی، پچھلے سال میرے شوہر نے ایک اسٹامپ پیپر پہ لکھی ہوئی طلاق دی جس پر گواہوں کے دستخط بھی تھے اور نوٹری پبلک والوں کی مہر بھی اس پر لگی ہوئی تھی، یہ پچھلے سال فروری میں انہوں نے یونین کونسل کے بجائے خود میرے والدین تک پہنچائی، والدین نے سمجھایا اور صلح کرادی، مگر اس نے خاندان میں یہ بات مشہور کردی کہ یہ میری بیوی نہیں ہے، میں نے اسے طلاق دےدی ہے۔ اس کے بعد میں نے اپنا بیڈ روم اس شخص سے الگ کرلیا، اس کے بعد میرے اور اس کے درمیان میاں بیوی والا تعلق نہیں رہا، پھر اسی سال جون میں اس نے مجھے طلاق دی، اسٹامپ پیپر تھا جس پر گواہوں کے دستخط اور میرے شوہرکے دستخط اور اس کا شناختی کارڈ نمبر وغیرہ سب درج تھا اور نوٹری پبلک والوں کی مہر بھی لی ہوئی تھی۔ یہ طلاق نامہ بھی یونین کونسل کے بجائے اس نے خود آکر میری والدہ کو دی۔ دوسری طلاق کے بعد میں اپنے والدین کے پاس آگئی اور میرا اس شخص سے کوئی تعلق نہیں رہا۔ اب اس بات کو چھ سات ماہ ہوچکے ہیں، لوگ کہتے ہیں کہ آپ آپس میں صلح کرلیں، آپ مجھے یہ بتائیں کہ ہم دونوں کا اب کوئی تعلق ہے یا نہیں؟&amp;nbsp;&lt;br /&gt;
&lt;/div&gt;
&lt;div style="direction: rtl; text-align: justify;"&gt;میں نے اپنا معاملہ ایک شیعہ عالم کو بتایا تو انہوں نے کہا کہ چونکہ مرد سنی ہے ، اس نے طلاق بھی اہل سنت والجماعت کے مطابق دینی ہے اس لیے آپ اہل سنت والجماعت کے کسی عالم، مفتی سے مسئلہ پوچھیں۔ اس کے بعد میں نے قانونی چارہ جوئی کرنے کا ارادہ کیا اور وکیل سے رابطہ کیا، وکیل نے نوٹری پبلک والوں سے ریکارڈ نکالنے کا کہا مگر ان کے پاس یہ طلاق رجسٹرڈ ہی نہیں ہوئی تھی، تو وکیل نے مجھے کہا کہ شریعت پاکستان کے قانون سے بلند ہے اس لیے آپ کسی مفتی سے رابطہ کریں، پاکستانی قانون کے مطابق تو طلاق نہیں ہوئی کیونکہ اس نے یونین کونسل کے تھرو یہ طلاق نہیں بھجوائی اور نوٹری پبلک والوں سے بھی اس نے رجسٹرڈ نہیں کرائی۔&amp;nbsp;&lt;/div&gt;
&lt;div style="direction: rtl; text-align: justify;"&gt;اس ساری صورت حال کو دیکھتے ہوئے آپ مجھے یہ بتائیں کہ کیا میرایہ مسئلہ کوئی اہل سنت والجماعت کا عالم حل کرے گا یا اہل تشیع کا عالم؟ اور دوسرا مجھے یہ بتائیں کہ دو طلاقوں کے بعد ہمارا کوئی تعلق اور کوئی رشتہ ہے یا نہیں؟&amp;nbsp;&lt;/div&gt;
&lt;div style="direction: rtl;"&gt;&lt;br /&gt;
&lt;/div&gt;</description>
      <category>نکاح و طلاق</category>
      <category>معاملات</category>
      <category>فرق باطلہ</category>
      <guid isPermaLink="true">http://fiqhacademy.com.pk/Fatawaa/Post/719/دو-طلاقوں-کے-بعد-میاں-بیوی-کا-تعلق</guid>
      <pubDate>Thu, 14 May 2020 11:06:26 GMT</pubDate>
      <blog:publishedon>2020-05-14 11:06:26Z</blog:publishedon>
    </item>
    <item>
      <title>مسلم اور غیر مسلم کے مشترکہ چندے سے مسجد کے اخراجات کی ادائیگی </title>
      <link>http://fiqhacademy.com.pk/Fatawaa/Post/716/مسلم-اور-غیر-مسلم-کے-مشترکہ-چندے-سے-مسجد-کے-اخراجات-کی-ادائیگی</link>
      <description>&lt;div style="direction: rtl; text-align: justify;"&gt;ایک بلڈنگ ہے جس میں مسلم اور بہت سے غیر مسلم ہندو، کرسچن، شیعہ، آغانی وغیرہ رہتے ہیں، اس بلڈنگ کے نیچے مسلمانوں نے مسجد بنائی ہوئی ہے، اپارٹمنٹ انتظامیہ مسجد کے انتظامی اخراجات کے لیے تمام لوگوں (مسلمانوں اور غیر مسلموں) سے چندہ جمع کرتی ہے اور پھر سب کے مشترکہ جمع شدہ چندے سے مسجد کے اخراجات اور امام کی تنخواہ وغیرہ کی ادائیگی کرتی ہے۔ کیا اس طرح کرنا درست ہے؟ مفصل مدلل جواب عنایت فرمائیے۔&lt;br /&gt;
&lt;/div&gt;
&lt;div style="direction: rtl;"&gt;&lt;br /&gt;
&lt;/div&gt;
&lt;div style="direction: rtl;"&gt;&lt;br /&gt;
&lt;/div&gt;</description>
      <category>آداب و اخلاق</category>
      <category>فرق باطلہ</category>
      <guid isPermaLink="true">http://fiqhacademy.com.pk/Fatawaa/Post/716/مسلم-اور-غیر-مسلم-کے-مشترکہ-چندے-سے-مسجد-کے-اخراجات-کی-ادائیگی</guid>
      <pubDate>Thu, 14 May 2020 10:45:40 GMT</pubDate>
      <blog:publishedon>2020-05-14 10:45:40Z</blog:publishedon>
    </item>
    <item>
      <title>قادیانی سے اپنی رقم وصول کرنے کےلیے کوئی معاملہ کرنا  </title>
      <link>http://fiqhacademy.com.pk/Fatawaa/Post/636/قادیانی-سے-اپنی-رقم-وصول-کرنے-کےلیے-کوئی-معاملہ-کرنا</link>
      <description>&lt;div style="direction: rtl; text-align: justify;"&gt;ایک مسلمان کے ایک قادیانی کے ساتھ تعلقات تھے اور پراپرٹی کا کاروبار بھی مشترکہ تھا حالانکہ اس شخص کو یہ معلوم نہیں تھا کہ قادیانیوں کے ساتھ تعلقات رکھنا جائز نہیں۔اور اس قادیانی نے مسلمان کو دھوکہ دےکر بہت زیادہ رقم لے لی، بعد میں اس مسلمان کو یہ معلوم ہوگیا کہ قادیانیوں کے ساتھ تعلقات اور لین دین جائز نہیں ۔ اب یہ مسلمان ایک فیکٹری لگانا چاہتا ہے جس میں وہ قادیانی بھی ان کو رقم دینے کو تیار ہے اور یہ مسلمان چاہتا ہے کہ اس قادیانی سے کسی طریقے سے اپنی رقم وصول کر لے، تو کیا اس کے ساتھ صرف اس غرض سے لین دین کرنا تاکہ اپنی رقم اس سے کسی طریقے سے وصول کر لیں (اور اور رقم بھی بہت زیادہ ہے) یہ جائز ہے یا نہیں ؟&lt;br /&gt;
&lt;/div&gt;
&lt;div style="direction: rtl;"&gt;&lt;br /&gt;
&lt;/div&gt;
&lt;div style="direction: rtl;"&gt;&lt;br /&gt;
&lt;/div&gt;</description>
      <category>معیشت وتجارت</category>
      <category>معاملات</category>
      <category>فرق باطلہ</category>
      <guid isPermaLink="true">http://fiqhacademy.com.pk/Fatawaa/Post/636/قادیانی-سے-اپنی-رقم-وصول-کرنے-کےلیے-کوئی-معاملہ-کرنا</guid>
      <pubDate>Sat, 25 Apr 2020 11:41:09 GMT</pubDate>
      <blog:publishedon>2020-04-25 11:41:09Z</blog:publishedon>
    </item>
    <item>
      <title>امام بارگاہ کی اذان کا احترام</title>
      <link>http://fiqhacademy.com.pk/Fatawaa/Post/583/امام-بارگاہ-کی-اذان-کا-احترام</link>
      <description>&lt;div&gt;
&lt;p dir="RTL" style="text-align: justify;"&gt;السلام علیکم!میرے گھر کے نزدیک امام بارگاہ ہے، کیا وہاں کی اذان کا احترام کرنا ضروری ہے جبکہ ان کی اذان مختلف ہے؟&lt;/p&gt;
&lt;div&gt;&lt;br /&gt;
&lt;/div&gt;
&lt;/div&gt;</description>
      <category>عقائدو ایمانیات</category>
      <category>عبادات</category>
      <category>فرق باطلہ</category>
      <guid isPermaLink="true">http://fiqhacademy.com.pk/Fatawaa/Post/583/امام-بارگاہ-کی-اذان-کا-احترام</guid>
      <pubDate>Wed, 01 Apr 2020 08:19:06 GMT</pubDate>
      <blog:publishedon>2020-04-01 08:19:06Z</blog:publishedon>
    </item>
  </channel>
</rss>