<?xml version="1.0" encoding="utf-8"?>
<rss version="2.0" xmlns:blog="http://dnn-connect.org/blog/" xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom" xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/">
  <channel>
    <title>Fatawaa - شرکت و مضاربت</title>
    <link>http://fiqhacademy.com.pk/Fatawaa/term/25/locale/en-US/Fatawaa-شرکت-و-مضاربت</link>
    <description />
    <copyright>copyright by Fiqh Academy - Al Hikmah Waqf Reg. Pakistan</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Feb 2021 12:27:11 GMT</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Feb 2021 12:27:11 GMT</lastBuildDate>
    <category>شرکت و مضاربت</category>
    <generator>DotNetNuke Blog RSS Generator Version 6.2.2.0</generator>
    <ttl>30</ttl>
    <atom:link href="http://fiqhacademy.com.pk/DesktopModules/Blog/API/RSS/Get?tabid=174&amp;moduleid=565&amp;term=25" rel="self" type="application/rss+xml" />
    <item>
      <title>شركت سے متعلق سوال</title>
      <link>http://fiqhacademy.com.pk/Fatawaa/Post/1064/شركت-سے-متعلق-سوال</link>
      <description>&lt;div style="direction: rtl; text-align: justify;"&gt;كوئى شخص اپنے پىسوں سے كاروبار كرتاہےاور پھر دوسرے لوگوں كےشىئرز کی رقم بھى اس مىں شامل كرلىتا ہے، اور شرط ىہ ركھتا ہے كہ نفع ونقصان مىں سب شركاء برابر ہىں، جس كا جتنا سرماىہ ہوگا اسى حساب سےاس كو نفع ملے گا، اور اگر نقصان ہوا، تو سب كو اپنے حصوں كے اعتبار سے نقصان بھى برداشت كرنا ہوگا، اورمحنت صرف اىك شخص ہى كرے گا، جبكہ اس كے كچھ ملازم بھى ہوں گے، تو اس طرح شركت مىں حصہ لىنا اسلامى شرىعت مىں كىسا ہے؟ برائے مہربانی مىرى رہنمائی فرمائیں۔&lt;br /&gt;
&lt;/div&gt;
&lt;div&gt;&lt;br /&gt;
&lt;/div&gt;</description>
      <category>معیشت وتجارت</category>
      <category>شرکت و مضاربت</category>
      <category>معاملات</category>
      <guid isPermaLink="true">http://fiqhacademy.com.pk/Fatawaa/Post/1064/شركت-سے-متعلق-سوال</guid>
      <pubDate>Wed, 30 Dec 2020 03:51:54 GMT</pubDate>
      <blog:publishedon>2020-12-30 03:51:54Z</blog:publishedon>
    </item>
    <item>
      <title>والد کے مکان کی تعمیر میں لگائی گئی رقم کا حکم </title>
      <link>http://fiqhacademy.com.pk/Fatawaa/Post/888/والد-کے-مکان-کی-تعمیر-میں-لگائی-گئی-رقم-کا-حکم</link>
      <description>&lt;div style="direction: rtl; text-align: justify;"&gt;کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ جس گھر میں ہم لوگ رہتے ہیں وہ والد محترم کے نام پر ہے۔ آج سے کچھ عرصہ پہلے میں نے کچھ رقم گھر کی تعمیرات میں لگائی اور چاہت یہ ہے کہ ترکے کے وقت پہلے میری لگائی گئی رقم ادا کی جائے، تو اس کا شریعت میں کیا حکم ہے؟اگر چہ ابھی کوئی معاہدہ نہیں ہوا والد صاحب سے، لیکن والد صاحب اس بات پر راضی ہیں اور تعمیرات کے بعد جو مکان کی قیمت بڑھ گئی تو اس صورت میں میری جانب سے لگائے گئے پیسوں کا کیا تناسب ہوگا؟&amp;nbsp; واضح رہے کہ میں اپنی الگ نوکری کرتا ہوں۔ تعمیرات میں لگائی گئی رقم میں نے قرض لی تھی، جو کہ میں ہی ادا کروں گا، والد صاحب نہیں۔&amp;nbsp;رہنمائی فرمائیں۔ جزاک اللہ خیراً&lt;br /&gt;
&lt;/div&gt;
&lt;div&gt;&lt;br /&gt;
&lt;/div&gt;</description>
      <category>شرکت و مضاربت</category>
      <category>معاملات</category>
      <guid isPermaLink="true">http://fiqhacademy.com.pk/Fatawaa/Post/888/والد-کے-مکان-کی-تعمیر-میں-لگائی-گئی-رقم-کا-حکم</guid>
      <pubDate>Thu, 03 Sep 2020 05:17:07 GMT</pubDate>
      <blog:publishedon>2020-09-03 05:17:07Z</blog:publishedon>
    </item>
    <item>
      <title>مزارعت کی شرعی حیثیت </title>
      <link>http://fiqhacademy.com.pk/Fatawaa/Post/711/مزارعت-کی-شرعی-حیثیت</link>
      <description>&lt;div style="direction: rtl; text-align: justify;"&gt;ایک ویڈیو بیان موصول ہوا جس میں یہ کہا گیا ہے کہ &amp;rsquo;&amp;rsquo;مزارعت فقہ حنفی، امام ابوحنیفہ، امام شافعی وغیرہم رحمہم اللہ کے نزدیک حرام مطلق ہے، جس کی زمین ہے وہی کاشت کرے یا پھر زمین کسی دوسرے مسلمان بھائی کے حوالے کردے اور پھر اس سے کچھ نہ لے، متعدد احادیث میں یہ بات آئی ہے ۔ زمین میں مضاربت ممکن ہی نہیں ہے۔&amp;lsquo;&amp;lsquo; اس کے بارے میں بتائیے کیا یہ بات درست ہے؟&lt;br /&gt;
&lt;/div&gt;
&lt;div style="direction: rtl;"&gt;&lt;br /&gt;
&lt;/div&gt;
&lt;div style="direction: rtl;"&gt;&lt;br /&gt;
&lt;/div&gt;</description>
      <category>علوم الفقہ</category>
      <category>شرکت و مضاربت</category>
      <category>معاملات</category>
      <category>علوم</category>
      <guid isPermaLink="true">http://fiqhacademy.com.pk/Fatawaa/Post/711/مزارعت-کی-شرعی-حیثیت</guid>
      <pubDate>Wed, 13 May 2020 07:27:49 GMT</pubDate>
      <blog:publishedon>2020-05-13 07:27:49Z</blog:publishedon>
    </item>
    <item>
      <title>جرمانے اور بیعانے کا حکم  </title>
      <link>http://fiqhacademy.com.pk/Fatawaa/Post/695/جرمانے-اور-بیعانے-کا-حکم</link>
      <description>&lt;div style="direction: rtl; text-align: justify;"&gt;مندرجہ ذیل مسئلے میں رہنمائی فرمائیں:&lt;br /&gt;
&lt;/div&gt;
&lt;div style="direction: rtl; text-align: justify;"&gt;۱۔ ایک کمپنی کے پچاس فیصد شیئرز زید کے پاس ہیں اور پچاس فیصد بکر کے پاس ہیں،&amp;nbsp; دونوں میں یہ طے پایا&amp;nbsp; کہ کمپنی&amp;nbsp; میں شرکت کا معاملہ ختم کرتے ہوئے کوئی بھی ایک پارٹی کمپنی کی مکمل ملکیت حاصل کر لے اور اس کے لیے ضابطہ یہ مقرر کر دیا گیا کہ کمپنی کی ملکیت کا حقدار صرف وہی ہوگا جو شیئرز کی زیادہ سے زیادہ بولی دے گا ، جس کے اصول وضوابط بھی طے کرلیے گئے۔ اب زید فی شیئر سو روپے کی بولی دے کر جیت جاتا ہے جس کے بعد اس کے پاس ادائیگی کے لیے تین ماہ کا وقت ہوتا ہے۔&amp;nbsp;&lt;/div&gt;
&lt;div style="direction: rtl; text-align: justify;"&gt;۲۔لیکن&amp;nbsp; کسی وجہ سے زید اس خریداری سے دستبردار ہو جاتا ہے اور کہتا ہے کہ میں یہ ڈیل نہیں اٹھاسکتا تو جرمانے یا کسی بھی طور پر بکر اس بات کا پابند ہوتا ہے کہ وہ زید کے پاس موجود حصص دس فیصد کم رقم مثلا نوے روپے میں خرید لے اور اسے بھی اس رقم کی ادائیگی کے لیے تین ماہ کا وقت دیا جائے گا۔ سوال یہ ہے کہ کیا اس طرح دس فیصد کم کرنا شرعاً جائز ہے؟&lt;/div&gt;
&lt;div style="direction: rtl; text-align: justify;"&gt;۳۔ اب اگر بکر کہتا ہے کہ میرے پاس بھی رقم نہیں ہے اور میں یہ نہیں اٹھاسکتا تو سوال&amp;nbsp; یہ ہے کہ آغاز میں بولی جیتنے والی پارٹی زید نے جو دس فیصد بیعانہ دیا تھا جس پر وہ سو روپے میں خریدنے کا حقدار ہو گیا تھا تو کیا بکر اس بیعانے کو لوٹانے کا ذمہ دار ہے یا پھر بکر کے لیے یہ بیعانے کی رقم خود رکھ لینا بھی جائز ہے؟برائے مہربانی اس معاہدے کی تفصیلات کے متعلق شرعی حکم ذکر کر دیں۔&lt;/div&gt;
&lt;div style="direction: rtl;"&gt;&lt;br /&gt;
&lt;/div&gt;
&lt;div style="direction: rtl;"&gt;&lt;br /&gt;
&lt;/div&gt;</description>
      <category>معیشت وتجارت</category>
      <category>شرکت و مضاربت</category>
      <category>معاملات</category>
      <guid isPermaLink="true">http://fiqhacademy.com.pk/Fatawaa/Post/695/جرمانے-اور-بیعانے-کا-حکم</guid>
      <pubDate>Sat, 09 May 2020 10:32:09 GMT</pubDate>
      <blog:publishedon>2020-05-09 10:32:09Z</blog:publishedon>
    </item>
    <item>
      <title>کسی دوسرے کو کام میں لگانے پر کمیشن لینا</title>
      <link>http://fiqhacademy.com.pk/Fatawaa/Post/624/کسی-دوسرے-کو-کام-میں-لگانے-پر-کمیشن-لینا</link>
      <description>&lt;div style="direction: rtl; text-align: justify;"&gt;میرا ایک دوست لوگوں سے انویسٹمنٹ لے كر كاروبار کرتا ہے اس کا کہنا ہے کہ اگر تم کسی کو اس کام میں لگاؤگے تو تمہیں بھی آخر میں کمیشن ملے گا۔ میں نے ایک دوست کو اس کام میں لگایا تو اب جو مجھے کمیشن ملے گا کیا مجھے اپنے دوست کو بتانا ضروری ہوگا کہ آپ کو اس کام میں لگانے کی وجہ سے یہ کمیشن مل رہا ہے؟&lt;/div&gt;</description>
      <category>معیشت وتجارت</category>
      <category>شرکت و مضاربت</category>
      <category>معاملات</category>
      <guid isPermaLink="true">http://fiqhacademy.com.pk/Fatawaa/Post/624/کسی-دوسرے-کو-کام-میں-لگانے-پر-کمیشن-لینا</guid>
      <pubDate>Sat, 11 Apr 2020 19:00:00 GMT</pubDate>
      <blog:publishedon>2020-04-11 19:00:00Z</blog:publishedon>
    </item>
    <item>
      <title>شراکت داری  </title>
      <link>http://fiqhacademy.com.pk/Fatawaa/Post/548/شراکت-داری</link>
      <description>&lt;div style="direction: rtl;"&gt;
&lt;p dir="RTL"&gt;&lt;span&gt;سوال&lt;/span&gt;&lt;span&gt;:&lt;/span&gt;&lt;span&gt; السلام علیکم! کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس بارے میں کہ اگر دو شخص باہم رضامندی سے قربانی کے لیے جانور بیچنے کے حوالے سے اس طرح معاملہ طے کریں کہ ایک شخص جانور خریدے گا اور دوسرا شخص (خریدنے والے سے خرچہ لیے بغیر) ان کو پالے گا اور جب ان میں سے کسی جانور کو بیچا جائے گا تو پہلے وہ قیمت جو جانور کو خریدتے وقت ادا کی گئی تھی اس کو الگ کرکے اسے دی جائیگی جس نے وہ جانور خریدا تھا اور پھر منافع کو آدھا آدھا تقسیم کیا جائے گا تو کیا ایسا معاملہ درست ہوگا؟&lt;/span&gt;&lt;/p&gt;
&lt;br /&gt;
&lt;/div&gt;</description>
      <category>شرکت و مضاربت</category>
      <category>معاملات</category>
      <guid isPermaLink="true">http://fiqhacademy.com.pk/Fatawaa/Post/548/شراکت-داری</guid>
      <pubDate>Fri, 22 Nov 2019 05:39:56 GMT</pubDate>
      <blog:publishedon>2019-11-22 05:39:56Z</blog:publishedon>
    </item>
    <item>
      <title>سودی قرض دار کے ساتھ کاروبار میں شرکت</title>
      <link>http://fiqhacademy.com.pk/Fatawaa/Post/445/سودی-قرض-دار-کے-ساتھ-کاروبار-میں-شرکت</link>
      <description>&lt;strong style="text-align: justify;"&gt;سوال :&lt;/strong&gt;&lt;span style="text-align: justify;"&gt;&amp;nbsp;میں مکان بنا کر فروخت کرتا ہوں اور پلاٹ وغیرہ لے کر آگے پرافٹ پر سیل کردیتا ہوں ۔میرے ماموں میرے ساتھ اپنی رقم لگانا چاہتے ہیں اس کام میں وہ خود شریک نہیں ہوں گے صرف رقم دیں گے اور پرافٹ کا کچھ حصہ میں رکھ لوں گا جواُن کے ساتھ طے ہوگا وہ شارجہ میں نوکری کرتے ہیں اور بینک سے قرضہ لیتے رہتے ہیں ۔اب بھی قرضہ میں ہے جس سے وہ رقم مجھے دیں گے ۔شرعی طور پر کیا یہ درست ہے ۔کیا میں ایسا کرلوں؟&lt;/span&gt;</description>
      <category>شرکت و مضاربت</category>
      <category>معاملات</category>
      <guid isPermaLink="true">http://fiqhacademy.com.pk/Fatawaa/Post/445/سودی-قرض-دار-کے-ساتھ-کاروبار-میں-شرکت</guid>
      <pubDate>Wed, 24 Apr 2019 10:00:26 GMT</pubDate>
      <blog:publishedon>2019-04-24 10:00:26Z</blog:publishedon>
    </item>
  </channel>
</rss>